اصلی اہلسنت (مکمل رسالہ)
حافظ محمد عبداللہ بہاولپوری(مرحوم) کا نام دینی و مذہبی حلقوں میں کسی تعارف کامحتاج نہیں ہے۔ اس مرد درویش نے ساری زندگی دین حنیف کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ اور سادہ طرز زندگی اپنایا۔ علی گڑھ کے گریجویٹ ہونے کے باوجود سادگی و تقویٰ اس کا معیار تھا ۔ اور اسی طرز پر اس نے اپنی اولاد کی تربیت کی ۔ عام علمائے دین کے برعکس کبھی بھی تقاریر و تحاریر سے دام کمانے کی کوشش نہیں کی اور بلا معاوضہ دور دراز کے مقامات کے جلسوں میں خطابات فرماتے رہے۔ دین کی خدمت کا اس قدر جذبہ تھا کہ جب بہاولپور میں تشریف لائے تو اس وقت پوری ریاست بہاولپور میں اہل حدیث کا نام اجنبی تھا لیکن اس نیک سیرت شخص نے اس قدر جدو جہد اور جانفشانی سے لوگوں کو دین حنیف کی طرف بلایا کہ آج بہاولپور ڈویژن میں اہل حدیث کا ڈنکا بج رہا ہے۔ بہاولپور کے دور دراز کے دیہات اور چکوک میں اہلحدیث کی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ اور لوگ دھڑا دھڑ دین حنیف کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔ ان کے ہزاروں فیض یافتہ شاگرد آج ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ حضرت حافظ صاحب کی قبر پر کروڑ ہا کروڑ رحمتیں نازل فرمائے اور ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔
ذیل میں ان کا ایک مختصر رسالہ " اصلی اہل سنت " دیا جا رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ اس مختصر کتابچے کو لوگوں کے لیے نافع عام بنائے اور ہمیں صراط حق پر قائم دائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
حنفی ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محمدی۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کہیے کہاں سے تشریف لائے؟
حنفی۔ یہیں شہر سے۔
محمدی۔ آپ بہاولپور میں رہتے ہیں؟
حنفی۔ جی ہاں ۔
محمدی۔ پہلے کبھی دیکھا تو نہیں۔
حنفی۔ میں پہلے کبھی آپ کی مسجد میں نہیں آیا۔
محمدی۔ پھر آج کیسے تشریف لے آئے؟
حنفی۔ ایک مسئلہ دریافت کرنے آیا ہوں۔
محمدی۔ فرمائیے! میں حاضر ہوں۔
حنفی۔ سنا ہے اہلحدیث ایک نیا فرقہ نکلا ہے جو نہ صحابہ کو مانتے ہیں اور نہ اماموں کو، بلکہ بزرگوں کو بھی گالیاں دیتے ہیں۔
محمدی۔ بھئی! یہ سب یاروں کا پروپیگنڈا ہے۔ ورنہ دیانتداری کی بات ہے ہم نہ کسی کو برا کہتے ہیں نہ کسی کو گالی دیتے ہیں بلکہ عزت والوں کی عزت کرتے ہیں اور ماننے والوں کو مانتے ہیں۔
حنفی۔ آپ اماموں کومانتے ہیں؟
محمدی۔ کیوں نہیں۔
حنفی۔ لوگ تو کہتے ہیں آپ نہیں مانتے۔
محمدی۔ عیسائی بھی تو کہتے ہیں کہ مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے، تو کیا آپ عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے۔
حنفی۔ ہم تو عیسیٰ علیہ السلام کو مانتے ہیں۔
محمدی۔ پھر عیسائی کیوں کہتے ہیں کہ آپ عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے؟
حنفی۔ اس لئے کہ جیسے وہ مانتے ہیں ویسے ہم نہیں مانتے۔
محمدی۔ اسی طرح سے لوگ ہمیں کہتے ہیں۔ کیونکہ جیسے وہ اماموں کو مانتے ہیں ویسے ہم نہیں مانتے۔
حنفی۔ وہ اماموں کو کیسے مانتے ہیں؟
محمدی۔ نبیوں کی طرح۔
حنفی۔ نبیوں کی طرح کیسے؟
محمدی۔ ان کی پیروی کرتے ہیں ان کے نام پر فرقے بناتے ہیں۔ حالانکہ پیروی اور انتساب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ عیسائی اور مرزائی جو کافر ہیں وہ تو اپنی نسبت اپنے نبی کی طرف کرکے عیسائی اور احمدی کہلائیں۔ اور آپ مسلمان ہوتے ہوئے اپنے نبی کو چھوڑ کر اپنی نسبت امام کی طرف کریں اور حنفی کہلائیں۔ کیا عیسائی اور مرزائی اچھے نہ رہے جنہوں نے کم از کم نسبت تو اپنے نبی کی طرف کی۔
حنفی۔ آپ جو حنفی نہیں کہلاتے تو کیا آپ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو نہیں مانتے؟
محمدی۔ اگر ہم حنفی نہیں کہلاتے تو اس کے یہ معنی تو نہیں کہ ہم ان کو امام بھی نہیں مانتے۔ ہم ان کو امام مانتے ہیں لیکن نبی نہیں مانتےکہ آپ کی طرح ان کے نام پر حنفی کہلائیں۔ آپ ہی بتائیں آپ جو شافعی نہیں کہلاتے تو کیا آپ امام شافعی کو نہیں مانتے؟
حنفی۔ ہم امام شافعی کو ضرور مانتے ہیں لیکن جب حنفی کہلاتے ہیں تو پھر شافعی کہلانے کی کیا ضرورت ؟
محمدی۔ ہمیں بھی محمدی یا اہل حدیث کہلانے کے بعد حنفی کہلانے کی کیا ضرورت؟
حنفی۔ آپ محمدی کیوں کہلاتے ہیں؟
محمدی۔ آپ اپنے امام کے نام پر حنفی کہلائیں، ہم اپنے نبی کے نام پر محمدی نہ کہلائیں۔ آپ ہی بتائیں نبی بڑا یا امام۔ محمدی نسبت اچھی یا حنفی؟
حنفی۔ نسبت تو محمدی بہتر ہے لیکن حنفی بھی غلط تو نہیں۔
محمدی۔ غلط کیوں نہیں؟ اصلی باپ کے ہوتے ہوئے پھرکسی اور کی طرف منسوب ہونا کس شریعت کا مسئلہ ہے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہیں تو باپ کوچھوڑ کر کسی اور کی طرف نسبت کرنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا نہیں یا پھر غلط کار ہے جو اپنے آپ کو غیر کی طرف منسوب کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ لا ترغبو عن آبائکم فمن رغب عن ابیہ فقد کفر‘‘(مشکوٰۃ شریف) جو اپنے باپ سے نسبت توڑتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔ دوسری حدیث میں فرمایا۔’’ من ادعی الی غیر ابیہ وھو یعلم فالجنۃ علیہ حرام‘‘ (مشکوۃ شریف) جو اپنی نسبت جانتے بوجھتے غیر باپ کی طرف کرتا ہے اس پر جنت حرام ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دینی باپ ہیں تو ان کو چھوڑ کر غیر کی طرف نسبت کرنا بے دینی نہیں تو اور کیا ہے۔ اس کے علاوہ آپ بتائیں حنفی بننے کے لئے کہا کس نے ہے؟ کیا اللہ نے کہا ہے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یا خود امام نے؟
حنفی۔ کہا تو کسی نے نہیں۔
محمدی۔ جب حنفی بننے کے لیے کسی نے کہا نہیں، حنفیت اسلام کی کوئی قسم نہیں ، حنفیت نام کی اسلام میں کوئی دعوت نہیں(لیس لہ دعوۃ فی الدنیا ولا فی الآخرۃ) تو حنفی نسبت غلط کیوں نہیں؟
حنفی۔ حنفی کہلانے والے پہلے جتنے گزرے ہیں کیا وہ سب غلط تھے؟
محمدی۔ پہلے حنفی آج کل جیسے نہ تھے، ان کی یہ نسبت کرنا گمراہی اس وقت بنتی ہے جب مذہبی ہو اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہو۔ اگر یہ نسبت استادی شاگردی کی ہو تو کوئی حرج نہیں۔
حنفی۔ اگر حنفی کہلانا صحیح نہیں کیونکہ یہ فرقہ پرستی ہے تو پھر اہلحدیث کہلانا بھی تو فرقہ پرستی ہے۔
محمدی۔ اہلحدیث کوئی فرقہ نہیں ۔ اہلحدیث تو عین اسلام ہے۔ اسلام نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا ہے اور نبی کی پیروی اس کی حدیث پر عمل کرنے سے ہی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اہلحدیث بنے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔
حنفی۔ آپ جو اہلحدیث بنتے ہیں تو کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلحدیث بننے کے لیے کہا ہے؟
محمدی۔ اگر اہلحدیث بننے کے لیے نہیں کہا تو کیا اہلسنت بننے کے لیے کہا ہے؟ جو آپ اہلسنت کہلاتے ہیں؟
حنفی۔ کیا قرآن و حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا حکم نہیں؟
محمدی۔ پیروی کا حکم ہے لیکن اہلسنت بننے کا حکم تو نہیں۔
حنفی۔ پیروی آخر سنت کی ہوگی اور وہ اہلسنت بن کر ہی ہو سکتی ہے۔
محمدی۔ لیکن یہ پتہ کیسے لگے گا کہ یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟
حنفی۔ یہ پتہ تو حدیث سے ہی لگے گا۔
محمدی۔ پھر اہلحدیث بغیر کوئی اہلسنت کیسے ہو سکتا ہے۔ جیسے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر اسلام کا پتہ نہیں لگ سکتا ایسے ہی حدیث کے بغیر سنت کا پتہ نہیں لگ سکتا اسی لئے تو ہم لوگ عملاً اہلسنت ہیں اور مذہباً اہلحدیث ۔ اگر ہم اہلحدیث نہ ہوتے تو آپ جیسے اہلسنت ہوتے کہ نام اہلسنت کا اور کام اہل بدعت کے ۔ اب دیکھیں آپ کہتے اپنے آپ کو اہل سنت ہیں لیکن تقلید اماموں کی کرتے ہیں ۔ کہتے اپنے آپ کو اہل سنت ہیں اور کرتے عید میلاد النبی ہیں ۔ کہتے اپنے آپ کو اہل سنت ہیں پڑھتے مولود ہیں کھاتے ختم اور گیارھویں ہیں اسی طرح سے قل ، تیجا ، چالیسواں بہت سی ایسی بدعات ہیں جو آپ کرتے ہیں حالانکہ وہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بالکل ثابت نہیں جب کوئی عمل حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہو اس کا کرنے والا اہل سنت کیسے ہو سکتا ہے؟
حنفی۔ اللہ نے تو قرآن مجید میں مسلم نام رکھا ہے پھر آپ اہل حدیث کیوں کہلواتے ہیں؟
محمدی۔ مسلم تو ہمارا ذاتی نام ہے جیسا کہ بچے کی پیدائش پر اس کا نام رکھا جاتا ہے۔ لیکن اہلحدیث ہمارا وصفی نام ہے جو ہمارے طریق کار کو ظاہر کرتا ہے۔ آدمی کے کئی نام اس کے پیشے ، مشاغل اور اس کے اوصاف کے پیش نظر پڑ جاتے ہیں ۔ نہ یہ شرعاً ممنوع ہے، نہ عرفاً ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محمد اور احمد ذاتی نام تھے ۔ حاشر، عاقب، شافی وغیرہ بہت سے وصفی نام تھے جوآپ کو ممتاز کرتے تھے۔ قرآن مجید نے عیسائیوں کو اہل انجیل کہا ہے’’ والیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ‘‘(المائدہ 47)۔ حدیث میں ہے ’’ فاوترو یا اھل القرآن’’ اے اہل قرآن وتر پڑھا کرو۔
حنفی۔ کچھ بھی ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو یہ مسلمانوں کا نام نہیں تھا ۔
محمدی۔ کیوں نہیں تھا۔ نام تو تھا اگرچہ مشہور نہیں تھا، جب وصفی نام یا لقب رکھنا ، بشرطیکہ وہ غلط یا برا نہ ہو، جائز ہے تو اگرچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے اسلام کی وضاحت ہوتی ہے، تفریق نہیں ہوتی۔ اہل سنت و اہل حدیث وغیرہ نام جو پہلے مشہور نہ ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ان ناموں کی چنداں ضرورت نہ تھی ۔ نام رکھے جاتے ہیں امتیاز کے لیے ۔ اس وقت سب مسلم تھے کوئی فرقہ نہیں تھا ۔ سب کا طریق کار ایک ہی تھا اس لئے اس وقت ان ناموں کی ضرورت نہ تھی ۔ جب فرقہ پرستی شروع ہو گئی تویہ نام نمایاں ہوئے ۔ جب شیعہ کا چرچا ہوا تو اہل سنت و الجماعت کا نام مشہور ہوا۔ جب اماموں کی تقلید نے زور پکڑا تو اہلحدیث کے نام کو فروغ ہوا ۔ چونکہ اہل سنت، اہل حدیث اور محمدی وغیرہ ناموں سے اتباع رسول اور تعلق بالرسول کا اظہار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام برے نہیں ۔ صحابہ اپنے آپ کو ان ناموں سے موسوم کرتے تھے۔
حنفی۔ اگروصفی اور لقبی نام رکھنا بدعت نہیں تو پھر حنفی کہلانے میں کیا حرج ہے۔
محمدی۔ حنفی کہلانے میں بہت حرج ہے۔ ایک حنفی کہلائے گا تو دوسرا شافعی، اس سے اسلام میں فرقے پیدا ہوں گے۔ جب ہمارا اصلی نام منجانب اللہ مسلمین ہے تو وصفی اور لقبی نام ایسا ہونا چاہیے جو اصلی نام کا ممیز و معرف ہو ، نہ کہ منقسم ۔ حنفیت سے اسلام کی تعریف نہیں ہوتی کیونکہ حنفیت اسلام کی کوئی قسم نہیں ہے بلکہ تفریق ہوتی ہے دین کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ حنفی ، شافعی وغیرہ فرقے اسی طرح تو پیدا ہوئے ہیں اس لئے اپنے آپ کو حنفی وغیرہ کہنا دین میں تفریق پیدا کرکے اس کو برباد کرنا ہے ۔ نام وہ رکھنا چاہیے جو اسلام کے مترادف ہو اور وہ محمدی ، اہل سنت اور اہل حدیث وغیرہ ہی ہو سکتے ہیں۔ حنفی ، شافعی وغیرہ نہیں ۔ محمدی ، اہل سنت اور اہل حدیث میں اہل حدیث کا نام زیادہ جامع ہے کیونکہ محمدیت اور سنت رسول کو جانچنے کا معیارصرف حدیث ہے۔اسی حدیث کے معیار نے بتایا کہ دیوبندی اور بریلوی کا اہل سنت کا دعویٰ صحیح نہیں کیونکہ ان کا احادیث کے مطابق سنتوں پر عمل نہیں ۔ اہلحدیث کا نام اس لئے بھی زیادہ جامع ہے کہ لفظ حدیث قرآن کو بھی شامل ہے اس لئے اہل حدیث سے مراد وہ جماعت ہوتی ہے جو قرآن و حدیث پر عمل کرے ، حنفیت کے لفظ میں قرآن و حدیث دونوں نکل جاتے ہیں صرف فقہ حنفی رہ جاتی ہے، جو خسارہ ہی خسارہ ہے۔
حنفی۔ حدیث کو تو ہم بھی مانتے ہیں۔
محمدی۔ صرف مانتے ہی ہیں ۔ عمل نہیں کرتے۔ اگر عمل کرتے ہوتے تو اہلحدیث ہوتے۔ آدمی مانتا بہت سوں کو ہے لیکن منسوب اسی کی طرف ہوتا ہے جس سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ ماننے کو مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کو بھی مانتے ہیں لیکن عیسائی نہیں کہلاتے۔ کیونکہ ان کی شریعت پر عمل نہیں کرتے۔ مرزائی کہنے کو تومحمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مانتے ہیں لیکن کہلاتے احمدی ہی ہیں ۔ کیونکہ ان کا اصل تعلق مرزا غلام احمد سے ہے جو ان کا نبی ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں۔ ماننے کو تو آپ حدیث کو بھی مانتے ہیں اور امام شافعی کو بھی ۔ لیکن نہ اہلحدیث کہلاتے ہیں نہ شافعی۔ کیونکہ آپ کا اصل تعلق امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہ سے ہے۔ نہ کہ حدیث سے ہے نہ امام شافعی سے۔ ماننے کو تو ہم بھی اماموں کو مانتے ہیں لیکن منسوب صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان سے ہی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اس لئے نہ شافعی کہلاتے ہیں نہ حنفی۔
حنفی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو تو سب مانتے ہیں ۔
محمدی۔ صرف مانتے ہی ہیں پیروی نہیں کرتے۔ اگر پیروی کریں تو پھر حنفی ، شافعی بننے کی کیا ضرورت ہے۔
حنفی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کا کوئی امام نہیں؟
محمدی۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کسی امام کی ضرورت ہے؟
حنفی۔ زندگی متحرک ہے نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ آخر وہ کس سے لینے ہیں؟
محمدی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لیں ۔
حنفی۔ ان سے اب کیسے؟ اب وہ کہاں ہیں؟
محمدی۔ آپ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل نہیں؟
حنفی۔ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تو میں ضرور قائل ہوں۔
محمدی۔ پھر امام کی کیا ضرورت جو لینا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیں ۔
حنفی۔ وہ اب کیا دیتے ہیں؟
محمدی۔ اگر وہ کچھ دیتے نہیں تو حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیسی اور اس کا فائدہ کیا ؟
حنفی۔ حیات کا یہ مطلب تو نہیں کہ وہ اب کچھ دیتے لیتے ہیں ۔
محمدی۔ پھر حیات کا اور کیا مطلب ہے ؟
حنفی۔ حیات کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ سلام سنتے ہیں ۔
محمدی۔ کیا وہ صرف سلام سننے کے لیے حیات ہیں ۔ یہ حیات کیسی کہ ان کے عاشق ان کی آنکھوں کے سامنے شرک و بدعت کریں اور وہ چپ پڑے ان کو گمراہ ہوتا دیکھتے رہیں اور سلام سنتے رہیں ۔ کیا وہ سلام سننے کے لئے دنیا میں آئے تھے یا شرک و بدعت کو مٹانے اور دین سکھانے کے لیے ؟
حنفی۔ دین تو وہ سکھا کر گئے تھے ۔ اب کیا سکھانا ہے۔
محمدی۔ اگر وہ دین سکھا کر گئے تھے تو پھر امام کی کیا ضرورت؟
حنفی۔ زندگی میں نئے نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کا حل امام ہی پیش کر سکتا ہے۔ اس لئے امام کا ہونا ضروری ہے۔
محمدی۔ آج کل آپ کا امام کون ہے؟ جو آپ کے پیش آمدہ مسائل حل کرتا ہے۔
حنفی۔ ہمارے امام تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں ۔
محمدی۔ وہ کب پیدا ہوئے؟
حنفی۔ 80 ہجری۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ستر سال بعد۔
محمدی۔ کیا ان کے بارے میں بھی آپ کا عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح حیات الامام کا ہے۔
حنفی۔ نہیں وہ تو فوت ہو چکے ہیں ۔
محمدی۔ ان کو فوت ہوئے کتنا عرصہ ہوچکا ہے۔
حنفی۔ تقریباً ساڑھے بارہ سو سال۔
محمدی۔ جب آپ امام کو حیات بھی نہیں سمجھتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حیات سمجھتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور امام کی وفات میں کوئی زیادہ لمبا عرصہ بھی نہیں ۔ تو پھر یہ کیا بات کہ امام کی فقہ تو زندگی کے مسائل حل کرے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فقہ فیل ہو جائے اور یہ کام نہ کرسکے۔
حنفی۔ امام صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اصول دین کو سامنے رکھ کر فقہ کی ایسی تدوین کی کہ لاکھوں مسائل ایک جگہ جمع کر دئیے جو رہتی دنیا تک کام آئیں گے۔
محمدی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیوں نہ کیا ۔ آخر اس کی کیا وجہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش کردہ دین تو صرف سوسال تک کام دے سکا لیکن امام صاحب نے دین کو ایسے انداز سے پیش کیا کہ آج تک کام دے رہا ہے۔ بلکہ قیامت تک کام دیتا رہے گا اس کی کیا وجہ ہے؟ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تو سوسال بعد ہی امام کی ضرورت پڑ گئی جو زندگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کا حل پیش کرے۔ لیکن اس امام کے بعد تیرہ سو سال ہو گئے ، آج تک کسی نبی یا امام کی ضرورت پیش نہ آئی ۔ وہی امام ، وہی فقہ کام دے رہے ہیں اور آپ اسی کے نام پر حنفی چلے آرہے ہیں ۔ اگر امام صاحب ایسے ہی تھے جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے تو ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ نبی ہونا چاہیے تھا تا کہ اختلافات ہی نہ ہوتے نہ محمدی ، حنفی کا جھگڑا ہوتا نہ اماموں کا چکر ہوتا۔ شافعی ،مالکی، حنبلی کا مسئلہ بھی ختم ہوجاتا۔ سب ایک ہوتے اور حنفی ہوتے اب عجیب بات یہ ہے کہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدہ آپ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مانتے ہیں اور مسئلے امام صاحب کے مانتے ہیں ۔ کلمہ محمد رسول اللہ کا پڑھتے ہیں اور حنفی بن کر پیروی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کرتے ہیں۔
حنفی۔ آپ لوگ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل کیوں نہیں ؟
محمدی۔ اگرحضور حیات ہوں تو ہم حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل ہوں ۔ اس عقیدے کا کچھ فائدہ ہو تو ہم اس کے قائل ہوں۔ جب آپ لوگ حنفی بن گئے تو حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیدہ کہاں رہا حقیقت یہ ہے کہ آپ لوگ جو حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائل ہیں تو صرف رسمی طور پر قائل ہیں دل و عقل سے آپ بھی اس کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اگر آپ لوگ اسے صحیح سمجھتے ہوتے تو کبھی حنفی نہ بنتے۔ آپ کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حنفی بن جانا اس بات کی بین دلیل ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ نہیں سمجھتے ورنہ کون ایسا بد بخت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امام اور پیر پکڑتا پھرے۔ آپ جو امام اور پیر پکڑتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یا زندہ نہیں سمجھتے یا کافی نہیں سمجھتے۔
حنفی۔ آپ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے بالکل قائل نہیں؟
محمدی۔ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی برزخی حیات کے قائل ہیں دنیوی حیات کے قائل نہیں ۔
حنفی۔ اس کا کیا مطلب؟
محمدی۔ یہی کہ آپ دنیا میں خود زندہ نہیں بلکہ آپ کی نبوت زندہ ہے ۔ برزخ میں اللہ کے ہاں آپ خود زندہ ہیں۔
حنفی۔ دنیا میں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں تو لوگ ان سے دین کیسے لیتے ہیں ؟
محمدی۔ جس امام کو آپ پکڑے ہوئے ہیں وہ کیا دنیا میں ہے؟
حنفی۔ دنیا میں تو وہ بھی نہیں ۔
محمدی۔ پھر آپ اس سے مسئلے کیسے لیتے ہیں ؟
حنفی۔ ان کی توکتابیں موجود ہیں۔
محمدی۔ تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود نہیں ؟
حنفی۔ کتابیں تو اماموں نے خود لکھی ہیں لیکن حدیث تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں لکھی اس کو تو لوگوں نے بعد میں جمع کیا ہے۔
محمدی۔ فقہ حنفی جس کو آپ مانتے ہیں۔ وہ کونسی امام صاحب نے خود لکھی ہے۔ وہ بھی تو لوگوں نے ہی جمع کی ہے ۔ اور وہ بھی بغیر سند کے ۔ پھر جیسے فقہ آپ تک پہنچ گئی ۔ حدیث ہم تک پہنچ گئی ۔ آپ جیسے اپنے امام کی فقہ کو فقہ حنفی کہتے ہیں ۔ اس سے کہیں زیادہ یقین کے ساتھ ہم حدیث کو حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں ۔ کیونکہ فقہ آپ کے پاس بغیر سند کے پہنچی ہے ۔ اس کے علاوہ حدیث دین ہے۔ اللہ اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ۔ کسی امام کی فقہ کی حفاظت کا اللہ ذمہ دار نہیں ۔
حنفی۔ اللہ فقہ کا ذمہ دار کیوں نہیں ؟
محمدی۔ اس لئے کہ فقہ لوگوں کی رائے کو کہتے ہیں ۔ جو غلط بھی ہو سکتی ہے اور صحیح بھی ۔ فقہ اللہ کی وحی نہیں ہو تی جو صحیح ہی ہو ۔ فقہ ہر امام کی علیحدہ علیحدہ ہو تی ہے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوتی ہے ۔ اور سب کے لئے ایک ہوتی ہے۔ فقہ بدلتی رہتی ہے ۔ حدیث بدلتی نہیں ۔ لہٰذا حدیث دین ہے فقہ دین نہیں ۔ اس لئے اللہ فقہ کا ذمہ دار نہیں ۔
حنفی۔ کیا سچ مچ ہی فقہ حنفی امام صاحب نے خود نہیں لکھی ۔
محمدی۔ کسی عالم سے پوچھ لیں ۔ اگر کوئی ثابت کردے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حنفی۔ مان لیا کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ، لیکن حدیث کو ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا۔
محمدی۔ کیا فقہ کو ہر کوئی سمجھ لیتا ہے ۔
حنفی۔ فقہ تو بہت آسان ہے۔
محمدی۔ کیا بغیر پڑھے آجاتی ہے ؟
حنفی۔ نہیں پڑھنی تو پڑتی ہے۔
محمدی۔ پھر کیا حدیث پڑھنے سے نہیں آتی؟
حنفی۔ آ تو جاتی ہے لیکن اس کا سمجھنا بہت مشکل ہے کیونکہ حدیثوں میں اختلاف بہت ہے۔ حدیثوں کا سمجھنا تو امام ہی کا کام ہے۔
محمدی۔ یہ سب دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اڑائی ہوئی باتیں ہیں۔ ورنہ حدیثوں میں اختلاف کہاں؟ اختلاف تو فقہ میں ہوتا ہے ۔ جو نام ہی اقوال اور آراء کا ہے جو ہے ہی مظنۂ اختلاف ۔ حدیث تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو کہتے ہیں۔ جس میں اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ دین ہونے کی وجہ سے اللہ اس کا ذمہ دار ہے۔
حنفی۔ فقہ میں بھی اختلاف ہے؟
محمدی۔ فقہ میں تو اتنا اختلاف ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں ۔ فقہ حنفی کے تین بڑے امام ہیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ ۔ ان تینوں اماموں کا فقہ کے تقریباً دو تہائی مسائل میں اختلاف ہے جیسا کہ امام غزالی نے اپنی کتاب محول میں لکھا ہے ۔ مثال کے طور پر
(1) امام ابو حنیفہ کہتے ہیں نماز کے سات فرض ہیں۔ صاحبین امام ابو یوسف اور امام محمد فرماتے ہیں کل چھ فرض ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں التحیات میں اگر وضو ٹوٹ جائے تو نماز نہیں ہوتی کیونکہ ساتواں فرض ابھی باقی ہے۔ صاحبین کہتے ہیں ہو جاتی ہے کیونکہ چھ فرض پورے ہو چکے ہیں ۔ (ہدایہ صفحہ 110)
(2) اگربیوی کا خاوند لا پتہ ہو جائے تو کوئی امام کہتا ہے عورت خاوند کی 120 سال کی عمر تک انتظار کرے ، ایک روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ کا یہی فتویٰ ہے ۔ حنفیوں کے زیادہ اماموں کی رائے ہے کہ جب اس کے خاوند کی عمر کے تمام آدمی مر جائیں اس وقت تک انتظار کرے۔ بعض کہتے ہیں 90 سال انتظار کرے۔ (ملاحظہ ہو ہدایہ صفحہ 206) ایک حنفی عورت بیچاری کیا کرے کدھر جائے۔
(3) امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں دو مثل سایہ ہو تو عصر کا وقت ہوتا ہے ۔ صاحبین فرماتے ہیں ایک مثل ہو تو وقت ہوتا ہے (ہدایہ صفحہ 46)
(4) امام صاحب فرماتے ہیں چار آدمی ہوں تو جمعہ ہو سکتا ہے صاحبین فرماتے ہیں تین ہوں تو ہو سکتا ہے۔ (ہدایہ صفحہ 149)
(5) اس کے علاوہ مستعمل پانی کو ہی لے لیں ۔ جس سے ہر وقت واسطہ پڑتا ہے ۔ کوئی پاک کہتا ہے کوئی پلید۔ پھر اس میں اختلاف ہوتا ہے کہ کم پاک ہے یا زیادہ، کم پلید ہے یا زیادہ۔
حنفی۔ یہ تو عالموں کی رائے کا اختلاف ہوگا ۔ امام صاحب کا فیصلہ کیا ہے؟
محمدی۔ امام صاحب ہی کے قول مختلف ہیں ۔ امام محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ استعمال شدہ پانی خود پاک ہے دوسری چیز کو پاک نہیں کر سکتا۔ امام ابو حنیفہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ مستعمل پانی پلید ہے۔ امام حسن کی روایت میں نجاست غلیظہ ہے ۔ اورابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت میں نجاست خفیفہ ۔ (ہدایہ صفحہ 22)
منیۃ المصلی میں گھوڑے کے جوٹھے کے بارے میں لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اس سلسلے میں چار روایتیں ہیں ۔
ایک روایت میں نجس، ایک روایت میں مشکوک ، ایک روایت میں مکروہ اور ایک روایت میں پاک ۔ بتائیے اب حنفی مقلد کدھر جائے کس کو صحیح سمجھے۔
حنفی مولوی حدیث سے تو متنفر کرتے ہیں اختلاف کا ہوّا دکھا کر اور یہ نہیں دیکھتے کہ فقہ میں کتنا اختلاف ہے ۔ ان لوگوں کی تو یہ مثال ہے ۔
’’ ْفر من المطر و قام تحت المیزاب ‘‘ بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوگیا۔ حدیث کو تو چھوڑا ہے اس لئے کہ اس میں اختلاف ہے ۔ حالانکہ حدیث میں اختلاف نہیں ۔اور پھنس گئے جا کر اختلاف کی دلدل یعنی فقہ میں ۔
حنفی۔ آپ لوگ ہماری طرح کسی ایک امام کو نہیں پکڑتے کہ اس کی تقلید کریں ؟
محمدی۔ نہیں ۔ اولاً اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو پکڑنے کی ضرورت نہیں ۔
ثانیاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا معصوم نہیں جس سے غلطی نہ ہو۔ اگر ہم کسی ایک کو پکڑیں گے اور غلطی میں اس کی پیروی بھی کریں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔ امام تو شاید اپنی اجتہادی غلطی کی وجہ سے بخشا جائے لیکن ہم مارے جائیں گے۔ ثالثاً حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا کامل نہیں جس کو پکڑ کر سارے کام چل جائیں۔ حنفی بننے کے بعد پہلے عقائد کے لئے ماتریدی بننا پرتا ہے پھر تصوف کے لئے کبھی قادری، کبھی چشتی، کبھی سہروردی، کبھی نقشبندی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نہیں کہ ایک کو پکڑ کر گزارا ہو جائے ۔ دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ رابعاً ایک کو پکڑنے سے باقی اماموں کا انکار لازم آتا ہے۔ ایک کو پکڑنے سے فرقے پیدا ہوتے ہیں، دین کے ٹکڑے ہوتے ہیں، ایک دین کے چار ٹکڑے ایسے ہی تو ہو گئے۔ قرآن کہتا ہے۔ کہ ’’ولا تفرقوا‘‘ فرقے فرقے نہ بنو ’’ ولا تکونوا من المشرکین من الذین فرقو دینھم وکانو شیعا‘‘ (الروم 32- 31)۔ کیونکہ جو فرقے بنا لیتے ہیں وہ مشرک ہو جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایک کو پکڑنا دین کو برباد کرنے اور خود کو مشرک بنانے کے مترادف ہے۔
حنفی۔ آپ کا فرقہ کب سے بنا ہے؟
محمدی۔ ہمارا فرقہ بنا نہیں۔ فرقہ تو وہ بنتا ہے جو اصل سے کٹتا ہے۔ اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایک کو امام پکڑ کر اپنا نام اس کے نام پر رکھتا ہے پھر اس کی تقلید کرتا ہے۔ ہم تو اصل ہیں یعنی اہلحدیث ، یعنی اسی وقت سے ہیں جب سے حدیث ہے اور حدیث اس وقت سے ہے جب سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نہیں پکڑتے کہ اس کی تقلید کرکے فرقہ بنیں۔ ہم فرقہ نہیں اصل ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں اور ان کی حدیث پر عمل پیرا ہیں۔
حنفی۔ آپ ہماری طرح اہل سنت کیوں نہیں؟
محمدی۔ آپ اہل سنت کہاں آپ تو حنفی ہیں۔ اہل سنت تو ہم ہیں جو حنفی، شافعی کچھ نہیں صرف اہل سنت ہیں۔
حنفی۔ آپ تو کہتے ہیں کہ ہم اہلحدیث ہیں ۔
محمدی۔ اہل حدیث اور اہل سنت میں کچھ فرق نہیں ۔ اصل اہل سنت اہلحدیث ہی ہوتے ہیں۔
حنفی۔ آپ اہلحدیث کیوں ہیں؟
محمدی۔ تاکہ حنفی اہل سنت اور اصلی اہل سنت میں فرق واضح ہو جائے۔ اہل سنت وہ ہوتا ہے جو صرف سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پابند ہو کسی امام کا مقلد نہ ہو۔ وہ سنت اسے سمجھے جو صحیح حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ اس کے نزدیک حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی سنت کا معیار ہے۔ اسی لئے اسے اہل حدیث کہتے ہیں۔ جب اسلام سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے اور سنت رسول بغیر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مل ہی نہیں سکتی تو اہل سنت بغیر اہل حدیث کے ہو ہی نہیں سکتا۔ حنفی اہل سنت وہ ہے جو شیعہ کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت ہو تا ہے کیونکہ یہ سنت اور جماعت صحابہ کو ماننے کا دعویدار ہوتا ہے اور وہ منکر ہیں۔ لیکن عملاً یہ اہل سنت نہیں ہوتا ، بلکہ حنفی ہوتا ہے۔ کیونکہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتا ہے اوراہل سنت کی تعریف میں کسی امام کی تقلید کرنا بالکل شامل نہیں ۔ اہل سنت اسے کہتے ہیں جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلے ۔ اور حنفی اسے کہتے ہیں جو امام ابو حنیفہ کی تقلید کرے فقہ حنفی پر چلے۔ اب دونوں یعنی حنفی اور اہلسنت کو ایک ثابت کرنے کے لیے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہ حنفی کو ایک ثابت کرنا ضروری ہے ۔ جو کہ تقریباً ناممکن ہے ۔ جب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہ حنفی ایک ثابت نہیں ہو سکتے تو اہل سنت اور حنفی بھی ایک ثابت نہیں ہو سکتے۔ ان میں فرق ضرور رہے گا۔
حنفی۔ میں سمجھتا ہوں فرق تو ان میں کوئی خاص نہیں ۔
محمدی۔ فرق تو اہل سنت اور اہل حدیث میں نہیں ۔ دونوں ایک ہیں کیونکہ سنت بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور حدیث بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ حنفی اور اہل سنت میں تو بہت فرق ہے۔
حنفی۔ کیا فرق ہے ؟
محمدی۔ یہی کہ حنفیت امتیوں کی بنائی ہوئی ہے۔ اور سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ۔ جو فرق نبی اور امتی میں ہے وہی فرق حنفی اور اہل سنت میں ہے۔ حنفی اہل سنت وہ ہے جس کی قومیت تو اہل سنت ہے لیکن اس کا گوت (خاندان) حنفی ہے۔ جس کی نسبت سے وہ اپنے آپ کو حنفی کہتا ہے اور فخر محسوس کرتا ہے ۔ حنفی اہلسنت قدیمی آباء و اجداد کی وجہ سے اہل سنت کہلاتا ہے اور انتساب جدید کی وجہ سے حنفی۔ یعنی اصل و نسل کے اعتبار سے تو وہ اہل سنت ہے لیکن اپنے کسب کے لحاظ سے حنفی ہے۔ ظاہر ہے مذہب کوئی نسل قسم کی چیز نہیں کہ باپ کے بعد بیٹے کا بھی وہی مذہب ہو مذہب تو اپنا کسب ہے۔ اپنی پسند ہے جو آپ کے عقائد و اعمال ہیں وہی آپ کا مذہب ہے۔ کوئی آدمی اس وجہ سے اہل سنت نہیں کہلا سکتا کہ اس کے بزرگ اہل سنت تھے ۔ اہل سنت تو وہی ہو سکتا ہے جو خود اہل سنت ہو یعنی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چلے۔ اہل سنت وہ نہیں ہو سکتا جو خود تو بدعتیں کرے حنفیت اور بریلویت کو اپنائے اور پدرم سلطان بود کی وجہ سے اہل سنت کہلائے ۔ اہل سنت مذہب ہے قوم نہیں ۔ مذہب بدلتا رہتا ہے قوم بدلتی نہیں ۔ مذہب کا تعلق عقائد و عمل سے ہے قوم سے نہیں جو آپ کا عمل ہو گا وہی آپ کا مذہب ہو گا۔ اگر عمل سنت پر ہے تو مذہب اہل سنت ہے، اگر عمل کسی پیر ، فقیر، امام ،ولی کی پیروی ہے تو مذہب اسی کا ہے جس کی پیروی ہے۔ حنفی اور بریلوی اہل سنت کا پنے آپ کو اہل سنت کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ آج کے اکثر مسلمانوں کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا، وہ اسلام کی حقیقت سے بالکل واقف نہیں۔ اس کے باوجود اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ صرف اس وجہ سے کہ ان کے نزدیک مسلمان ایک قوم ہے جو کبھی بدلتی نہیں ۔ وہ اسلام کے منافی جو مرضی کرتے رہیں ان کی مسلمانی میں فرق نہیں آتا ۔ آج کل کتنے مسلمان ہیں کہ موروثی مذہب ان کا اسلام ہے لیکن ذاتی مذہب ان کا سوشل ازم ہے اور وہ اپنے آپ کو سو شلسٹ مسلمان کہتے ہیں حالانکہ اسلام کا کوئی ایڈیشن یا کوئی قسم سوشل ازم و جمہوریت نہیں جیسا کہ شافعیت اور حنفیت بھی اسلام کی قسمیں نہیں ۔ سوشل ازم ہو یا جمہوریت ، حنفیت ہو یا شافعیت، دیوبندیت ہو یا بریلویت یہ سب اسلام میں اضافے ہیں جن کا اسلام بالکل متحمل نہیں ہے ۔ اسلام ایک خالص دودھ ہے جو نہ ازموں کی پلید ملاوٹ کا روادار ہے نہ اماموں کی پاک آمیزش کا۔ دودھ میں پاک پانی ملے یا کوئی پلید چیز ، دودھ خالص نہیں رہتا۔ دودھ اس وقت تک دودھ ہے جب تک وہ خالص ہے ۔ جونہی اس میں کوئی ملاوٹ ہوئی ، پاک یا پلید ،وہ ملاوٹی ہو گیا ، اس طرح اہل سنت جو خالص اسلام ہے اسی وقت تک اہل سنت ہے جب تک وہ صرف اہل سنت ہے ۔ جونہی وہ حنفی یا بریلوی یا کسی اور قسم کا اہل سنت بنا ، ملاوٹی ہوگیا ۔ اصلی نہ رہا اور اللہ بغیر اصلی کے کوئی چیز بھی قبول نہیں کرتا۔
حنفی۔ آپ جو مرضی کہیں عوام تو حنفیوں خاص کر بریلویوں کو ہی اہل سنت مانتے ہیں۔
محمدی۔ عوام کو نہیں دیکھا کرتے ۔ عوام تو کالانعام ہوتے ہیں ۔ دیکھا تو حقیقت کو کرتے ہیں کہ کہ حنفی بریلوی کی حقیقت کیا ہے اور اہل سنت کی کیا۔ اہل سنت کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پابند ہو، بدعات کے قریب نہ جائے۔ حنفی بریلوی وہ ہے جو حنفیت اور بریلویت کا پابند ہو، جو بذات خود بدعتیں ہیں۔ اب جس کی ذات ہی بدعت ہو وہ اہل سنت کیسے ہو سکتا ہے۔ رہ گیا عوام کا کہنا یا خود ان کا اہل سنت کہلانا ،تو یہ عرفاً ہے ۔ عرف کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ حقیقت بھی ہو۔ عرف عام میں تو ہر کلمہ گو کو مسلمان کہہ دیتے ہیں اور ہر داڑھی والے کو صوفی اور مولوی، مشرک ہو یا موحد ، سنی ہو یا شیعہ ، ضروریات دین کا قائل ہو یا منکر ۔ حتیٰ کہ مرزائی بھی آج تک عرف عام میں مسلمانوں میں ہی شمار ہوتے رہے ہیں ۔ تو کیا یہ حقیقت ہے ؟ کیا واقعی ہر کلمہ گو مسلمان ہوتا ہے، خواہ اس کے عقائد و اعمال کیسے ہی ہوں؟ اگر یہ صحیح ہے تو مرزائی کافر کیوں ؟ کیا ان کا وہی کلمہ نہیں جو سب مسلمان پڑھتے ہیں۔ جب عقیدے کی خرابی سے مرزائی مسلمان نہیں رہ سکتا تو شرک و بدعت کرنے والا اہلسنت کیسے ہو سکتا ہے؟ حنفی بریلوی جو اہل سنت مشہور ہیں تو وہ صرف شیعہ کی وجہ سے۔ کیونکہ شیعہ کے مقابلے میں سب ہی اہل سنت ہیں ۔ بریلویوں کی چونکہ اکثریت ہے اس لئے وہ اس نام سے زیادہ مشہور ہیں لیکن شیعہ کے اہل سنت کہنے سے بریلوی اہل سنت نہیں ہو سکتے ، جیسا کہ ہندوؤں اور انگریزوں کے کہنے سے مرزائی مسلمان نہیں ہو سکتے ۔ کوئی چیز کیا ہے ، اس کے لئے اس کی حقیقت کو دیکھا جا تا ہے نہ کہ عوام کالانعام کو کہ وہ کیا کہتے ہیں۔
حنفی۔ بریلوی صرف شیعہ کے کہنے سے ہی اہل سنت نہیں ۔ اہل سنت ہونے کے تو وہ خود بھی زبردست دعویدار ہیں ۔
محمدی۔ زبردست نہیں بلکہ زبردستی کے دعویدار ہیں ۔ صرف دعوے سے کیا ہوتا ہے۔ اگر کوئی منہ کرے بریلی کو اور قبلہ کہے کعبے کو ۔ راستہ چلے کوفے کا اور دعویٰ کرے مدینے کا تو اسے کون سچا کہے گا۔ زبردست دعویٰ تو مرزائی بھی کرتے ہیں ۔ کیا وہ مرزائی رہتے ہوئے اپنے دعوے سے مسلمان ہو سکتے ہیں؟
حنفی۔ آپ کا بھی تو دعویٰ ہی ہے کہ ہم اہل سنت ہیں ۔
محمدی۔ دعویٰ ہی نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ کیونکہ ہم صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں اور انہی کو اپنا امام و ہادی اور پیرومرشد سمجھتے ہیں۔ ان کے سوا کسی کی طرف منسوب نہیں ہوتے۔ ہم بھی اہل سنت نہ ہوتے اگر آپ کی طرح کسی امام کے مقلد ہوتے ۔ اور اس کے نام پر اپنی جماعت کا نام رکھتے۔
حنفی۔ آپ کو بھی تو وہابی کہتے ہیں ۔
محمدی۔ وہابی تو آپ ہمیں بناتے ہیں ورنہ ہم وہابی کہاں ۔
حنفی۔ ہمیں آپ کو وہابی بنانے کی کیا ضرورت؟
محمدی۔ تاکہ ایک حمام میں سارے ہی ننگے ہوں ۔ سارے ہی مقلد ہوں تاکہ ایک دوسرے کو طعنہ نہ دے سکیں ۔
حنفی۔ مقلد ہونا بھی کوئی طعنہ ہے ؟
محمدی۔ زبردست ! لیکن اگر کوئی سمجھے تو۔
حنفی۔ طعنہ کیسے؟
محمدی۔ مقلد تو انسان کو جانور کہنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ تقلید جانور کے گلے میں پٹہ ڈالنے کو کہتے ہیں ۔ یہ فعل جانوروں کے لئے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس لفظ کو انسانوں کے لیے کبھی استعمال نہیں کرتے ۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ صرف جانورں کے لیے آیا ہے۔
حنفی۔ آپ تقلید کسی کی بھی نہیں کرتے ؟
محمدی۔ جب تقلید ہے ہی جانوروں کے لئے ، انسانوں کا یہ فعل ہی نہیں تو ہم تقلید کسی کی بھی کیوں کریں ؟
حنفی۔ سنا ہے تقلید کے بغیر تو گزارہ ہی نہیں، تقلید تو ہر کوئی کرتا ہے۔ تقلید تو آپ بھی کرتے ہیں ماں باپ کی بھی اور استاد کی بھی۔
محمدی۔ اگر اسی کا نام تقلید ہے اور وہ ہم بھی کرتے ہیں تو آپ ہمیں غیر مقلد کیوں کہتے ہیں ؟ اگر ماں باپ یا استاد کی بات ماننا بھی تقلید ہے تو آپ اپنے امام کو مقلد کیوں نہیں کہتے ۔ آپ کیوں کہتے ہیں کہ مجتہد مقلد نہیں ہوتا۔ کیا اس کے ماں باپ نہیں ہوتے یا وہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار نہیں ہوتا۔ یہ سب مقلدین کے مولویوں کی تلبیس ابلیس ہے ورنہ جو تقلید مابہ النزاع ہے یہ نہیں ۔
حنفی۔ آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تقلید نہیں کرتے؟
محمدی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تقلید کے لیے کہا ہی نہیں تو رسول کی تقلید کیسے ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی تقلید اس آدمی کی بات ماننے کو کہتے ہیں جس کی بات شرعی دلیل نہ ہو۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول و فعل شریعت ہے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تقلید نہیں ہوسکتی۔ تقلید سے تو اللہ ہر انسان کو بچائے یہ تو بہت بڑی لعنت ہے۔ اس سے بڑی ذلالت اور کیا ہو سکتی کہ آدمی اپنے گلے میں کسی ایسے کا رسہ ڈالے جو جانے نہ پہچانے، نہ کسی کام آئے ، نہ پکڑانے میں نہ چھڑانے میں ۔
حنفی۔ ہم اپنے امام کو نہیں جانتے؟
محمدی۔ آپ کو یہ کس نے بتایا ہے کہ یہ آپ کا امام ہے ، اسے پکڑ لو ، اس کا رسہ اپنے گلے میں ڈال لو یہ آپ کو پار لگائے گا، یہی پکڑائے گا ، یہی چھڑائے گا۔ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کو اللہ نے امام مقرر کیا ہے ، جس کا کلمہ پڑھوایا ہے، جس کی سنت کو اپنا قانون ٹھہرایا ہے اور قانون بھی ایسا کہ وہی پکڑائے گا وہی چھڑائے گا ، اس کی تو تقلید نہ ہو اور اپنے گھر کے بنائے ہوئے امام کی تقلید ہو جو قیامت کو نہ جانے نہ پہچانے کہ کون میرا ، کون غیر؟
حنفی۔ جب آپ کسی کی تقلید بالکل نہیں کرتے تو پھر آپ کو وہابی کیوں کہتے ہیں ؟
محمدی۔ یہی بات تو ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ حنفی لوگ ہمیں ایک طرف تو غیر مقلد کہتے ہیں اور ایک طرف وہابی ۔ حالانکہ اگر کوئی غیر مقلد ہو تو وہابی کیسا ؟ اگر وہابی ہو تو غیر مقلد کیسا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے اہل بدعت ہیں وہ اہل حدیث سے بہت بغض اور حسد رکھتے ہیں۔ اسی حسد میں وہ ان کے طرح طرح کے نام رکھتے ہیں خواہ ان ناموں سے ان کی اپنے حماقت ہی ظاہر ہوتی ہو۔ یہی حال مخالفین کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہ بھی ان کے مختلف نام رکھتے تھے ،کبھی ساحر کہتے، کبھی شاعر، کبھی کاہن کہتے، کبھی مجنون ، کبھی کذاب و مفتری ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔
اسی لئے اللہ نے فرمایا ’’ انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا‘‘ ان حاسدین کو دیکھو یہ کیسے آپ کے الٹے سیدھے نام رکھتے ہیں ۔ بغض و حسد میں یہ ایسے کور باطن (دلوں کے اندھے) ہو رہے ہیں کہ ان کو صحیح بات سوجھتی ہی نہیں۔
اہل حدیث ۔ پیر عبدالقادر جیلانی کی نظر میں
اب آپ شاہ عبدالقادر جیلانی کا بیان حق نشان بھی سنیں ، جو ہمارے حق میں زبردست شہادت ہے۔ وہ اپنی کتاب غنیۃ الطالبین (صفحہ 294) پر فرماتے ہیں :’’ اعلم ان لاھل البدعہ علامات یعرفون بھا فعلامۃ اھل البدعۃ الوقیعۃ فی اھل الاثر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔الخ‘‘ بدعتیوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں ۔ بڑی علامت ان کی یہ ہے کہ وہ اہل حدیث کو برا بھلا اور سخت سست کہتے ہیں اور یہ سب عصبیت اور بغض کی وجہ سے ہے جو ان کو اصل اہل سنت سے ہوتا ہے ۔ اہل سنت کا صرف ایک ہی نام ہے اور وہ اہل حدیث ہے ۔
شاہ عبدالقادر صاحب کے اس بیان سے واضح ہوگیا کہ جو اہل حدیث کو برا بھلا کہتے ہیں وہ بدعتی ہیں ۔ اور جو بدعتی ہوں وہ اہل سنت نہیں ہو سکتے۔ نتیجہ یہ نکلا؛
(1) اہل حدیث کو برا بھلا کہنے والے اہل سنت نہیں ہو سکتے ۔
(2)جو اہل حدیث کے الٹے سیدھے نام رکھتے ہیں ، کبھی وہابی کہتے ہیں ، کبھی غیر مقلد، وہ سب بدعتی ہیں اور بدعتی اہل سنت نہیں ہو سکتے۔
(3) اہل سنت صرف اہل حدیث ہیں ۔ باقی زبردستی کے دعویدار ہیں ۔
(4) جب شاہ جیلانی ناجی جماعت صرف اہل سنت کو قرار دیتے ہیں اور وضاحت فرماتے ہیں کہ ا ہل سنت صرف اہل حدیث ہوتے ہیں تو ثابت ہوا کہ وہ خود بھی اہل حدیث تھے ۔
(5) جب شاہ جیلانی اہل حدیث تھے اور تھے بھی پیر کامل ۔ مسلم عندالکل تو معلوم ہوا کہ ا ہل حدیثوں میں بڑے بڑے ولی گزرے ہیں ۔
(6) جاہل عالموں کا یہ کہنا غلط ہے کہ اہل حدیث کوئی ولی نہیں ہوا۔
(7) جب ناجی فرقہ اہل سنت ہیں اور اہل سنت صرف اہل حدیث ہیں اور ولی کا ناجی ہونا ضروری ہے تو ثابت ہوا کہ ولی صرف اہل حدیث ہی ہو سکتا ہے
(8) جب ولی صرف اہل حدیث ہی ہو سکتا ہے تو ثابت ہوا کہ جتنے ولی گزرے ہیں وہ سب اہل حدیث تھے ۔
(9) جو اہل حدیث نہیں تھا وہ ولی بھی نہیں تھا ۔ خواہ جہلاء نے اسے ولی مشہور کر رکھا ہو۔
(10)نجات کے لیے بھی اور ولی بننے کے لیے بھی اہل حدیث ہونا ضروری ہے ۔ جو اہل حدیث نہ ہو ، ولی ہونا تو درکنار، اس کی نجات کا مسئلہ بھی خطرے میں ہے۔
حنفی۔ آپ نے تو بہت ڈرا دیا۔
محمدی۔ آپ کی خوش قسمتی ، جو آپ کو سمجھ آگئی ۔ ورنہ کتنے لوگ ہیں جن کو اپنی نجات کی فکر نہیں ۔ صرف فرقہ پرستی میں بد مست ہیں ۔ اور اس کی حمایت کو ہی دین کی خدمت سمجھتے ہیں ۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ پہلے حق کو پہچانے اور پھر اس پر پکا ہوجائے ۔
حنفی۔ حق کاپتہ کیسے لگے گا۔ ہر ایک ہی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔
محمدی۔ حق تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو کہتے ہیں اور اسی پر چلنا راہ نجات ہے۔
حنفی۔ کہتا تو ہر ایک یہی ہے کہ میں حق پر ہوں ۔ یہ پتہ کیسے لگے گا کہ کون حق پر ہے؟
محمدی۔ جو دین میں ملاوٹ نہ کرے وہ حق پر ہے۔ اس اصول سے آپ ہر ایک کو جانچ سکتے ہیں ۔ دنیا میں ہر فرقے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے آپ کو کسی نہ کسی کی طرف منسوب کر رکھا ہے اور یہ اس کے ملاوٹی ہونے کی دلیل ہے ۔ اہل حدیث ہی ایک ایسی جماعت ہے جو کسی کی طرف منسوب نہیں ہوتے ، صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں جو حدیث سے ثابت ہو۔
حنفی۔ سنت کا کیا مطلب ہے؟
محمدی۔ ’’ما سنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ جو راستہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لیے مقرر کیا ہو ، اسے سنت کہتے ہیں ۔ اور اس پر چلنے والے کو اہل سنت ۔
حنفی۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ کیسے اور کہاں سے لگتا ہے ؟
محمدی۔ حدیث پڑھنے سے اور حدیث کے عالموں سے پوچھنے سے ۔
حنفی۔ حدیث کے تو سب ہی عالم ہوں گے۔ کیا حنفی کیا اہلحدیث ۔
محمدی۔ حدیث کے عالم تو اصل میں اہل حدیث ہی ہوتے ہیں ۔ اوروں کو اول تو حدیث آتی نہیں ، اگر آجائے تو ان کے پاس چلتی نہیں ۔ حدیث و سنت کے بارے میں کچھ دریافت کرنا ہو تو اہل حدیث عالموں سے دریافت کریں ۔ فقہ کی کوئی بات پوچھنا ہو تو حنفی عالموں سے پوچھیں ۔ ہر چیز ایجنسی سے ہی اچھی ملتی ہے۔
حنفی۔ حدیثیں کون کون سی معتبر ہیں ؟
محمدی۔ حدیث کی کتابوں کے کئی درجے ہیں ۔ بعض اعلیٰ درجے کی ۔ بعض درمیانے درجے کی۔ بعض گھٹیا درجے کی ۔ بعض بیکار سی۔ اعلیٰ درجے کی تین کتابیں ہیں ‘ بخاری ، مسلم ،موطا امام مالک ۔ درمیانے درجے میں ترمذی، ابو داؤد، نسائی اور مسنداحمد وغیرہ ہیں ۔ تیسرے درجے میں طحاوی ، طبرانی اور بیہقی وغیرہ کی کتابیں ہیں۔ تیسرے درجہ کی کتابوں میں چونکہ ہر طرح کی حدیثیں ہیں ، اس لئے اعتبار صرف پہلے اوردوسرے درجے کی کتابوں پر ہے۔ چوتھے اور پانچویں درجے کی کتابیں بہت حد تک ساقط الاعتبار ہیں ۔
حنفی۔ کتابوں کی یہ تقسیم کس نے کی ہے؟
محمدی۔ پہلے علماء نے ۔ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کی حجۃ اللہ پڑھ کر دیکھیں آپ کو انشاء اللہ سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔
حنفی۔ اس تقسیم کو سب فرقے مانتے ہیں ؟
محمدی۔ اہل سنت کہلانے والے سب فرقے مانتے ہیں۔
حنفی۔ کیا درجہ اول کی کتابوں کی تمام حدیثیں صحیح ہیں ؟
محمدی۔ ہاں قریباً سب صحیح ہیں۔
حنفی۔ ہم نے سنا ہے کہ آپ تقلید کو بھی شرک کہتے ہیں ۔ حالانکہ تقلید کا شرک سے کیا تعلق؟
محمدی۔ تعلق کیوں نہیں ۔ تقلید اور شرک کاتو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شرک اگتا ہی تقلید کی سر زمین پر ہے۔ ہر مشرک پہلے مقلد ہوتا ہے پھر مشرک۔ اگر تقلید نہ ہو تو شرک کبھی پیدانہ ہو۔ شرک پیدا ہی تقلید سے ہوتا ہے۔ شرک کو اپنی پیدائش کے لئے جس زمین اور فضا کی ضرورت ہے وہ تقلید ہی مہیا کر سکتی ہے۔ تقلید ہمیشہ جاہل ، بے عقل کرتا ہے۔ اور شرک بھی وہیں پایا جاتا ہے جہاں جہالت اور بے عقلی ہو۔ ان دونوں کے لیے ایسی فضا کی ضرورت ہے کہاں عقل کا فقدان اور اندھی عقیدت کا زور ہو۔ ان دونوں کی بنیاد کسی کو حد سے بڑا اور اس کے مقابلے میں اپنے آپ کو چھوٹے سے چھوٹا سمجھنے پر ہے اور یہی عبادت کا مفہوم ہے۔ عبادت کہتے ہیں دوسرے کو بڑے سے بڑا جان کر اپنے آپ کواس کے مقابلے میں چھوٹے سے چھوٹا سمجھنا ، یہی کچھ مقلد اپنے امام سے کرتا ہے۔ وہ اپنے امام کو اتنا بڑا سمجھتا ہے کہ خود کو اس کے مقابلے میں جانور سمجھتا ہے۔ اور جانوروں کی طرح اس کا قلادہ گلے میں ڈالنے کو اپنی سعادت خیال کرتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اسے اللہ کا شریک ٹھہرا لیتا ہے۔
حنفی۔ اللہ کا شریک کیسے؟
محمدی۔ اس طرح کہ اس کی بات کو خدائی حکم سمجھتا ہے۔
حنفی۔ یہ شرک اور شریک ٹھہرانا کیسے ہو گیا ؟
محمدی۔ اللہ کا حق اپنے امام کو جو دیا۔ قرآن مجید میں ہے ’’ ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین مالم یاذن م بہ اللہ ‘‘ (الشوریٰ 21) کیا ان مشرکوں نے ایسے شریک بنا رکھے ہیں جو ان کے لیے دین میں ایسے مسئلے بناتے ہیں جن کی اللہ نے منظوری نہیں دی۔ اس آیت میں جس کے قول و قیاس کو دین سمجھا جئے اس کو اللہ نے اپنا شریک قرار دیا ہے۔ اللہ کے اذن کے بغیر نبی کی بات دین نہیں ہو سکتی، چہ جائیکہ عالموں کی آراء کو دین بنیا جائے۔ لیکن مقلد اپنے امام کی بات کو دین سمجھتا ہے۔ گویا جو حق تشریح اللہ کا تھا وہ اپنے امام کو دے دیتا ہے۔ سورۃ توبہ میں تو اللہ نے صاف فرما دیا ’’ اتخذو ا احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ‘‘ (توبہ 31) یہود و نصاریٰ جب بگڑے جیسے کہ آج کل کے مسلمان بگڑے ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب بنا لیا۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو اپنے علماء و مشائخ کو رب نہیں بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم ان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے تھے ۔ یعنی ان کی تجویزوں کو دین نہیں بنا لیتے تھے ؟ انہوں نے کہا یہ بات تو تھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی تو رب بنانا ہے (ترمذی)۔
حنفی۔ ہم تو اپنے امام کو رب نہیں بناتے ۔ ہم تو صرف امام مانتے ہیں ۔
محمدی۔ رب تو وہ بھی نہیں کہتے تھے ، لیکن درجہ ان کو رب کا دیتے تھے اسی لئے اللہ نے اسے رب بنانا قرار دیا ہے۔ نا م بدل دینے سے حقیقت نہیں بدل جاتی ۔ حقیقت حقیقت ہی رہتی ہے، نام خواہ کچھ بھی رکھ دیا جائے۔ آخر آپ امام کیوں بناتے ہیں ؟
حنفی۔ دین کے مسئلے لینے کے لیے ۔
محمدی۔ یہی کام تو یہود و نصاریٰ کیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے مسلمان ہو کر تسلیم کیا ۔ کیا ایسی امامت کی اسلام میں گنجائش ہے ؟
حنفی۔ کیا قرآن مجید میں نہیں ہے ’’ وجعلنا ھم ائمۃ یھدون بامرنا‘‘ (الانبیاء 73)
محمدی۔ یہ تو انبیاء کے بارے میں ہے، نبی تو امام ہو سکتا ہے بلکہ اما م ہوتا ہے، کیونکہ اسے خدا امام بناتا ہے۔ نبی کے سو ا کوئی امام نہیں ہو سکتا۔
حنفی۔ آپ کہتے ہیں نبی کے سوا امام نہیں ہو سکتا حالانکہ اسلام میں بڑے بڑے ائمہ دین گزرے ہیں۔
محمدی۔ ائمہ دین سے مراد یہ ہے کہ وہ دینی علوم کے بڑے عالم تھے ، نہ کہ قابل اطاعت تھے ، جن کو دین کے مسئلے بنانے اور دینی پیروی کرانے کا حق ہو، کہ ان کے نام پر تقلیدی مذہب چلائے جائیں ۔ اس قسم کی امامت کا تصور اسلام میں بالکل نہیں ہے ۔ سب سے پہلے یہ عقیدہ شیعہ نے گھڑا ، اہل سنت نے یہ عقیدہ ان سے لیا ۔ شیعہ نے یہ عقیدہ ، عقیدہ رسالت کو کمزور کرنے کے لیے گھڑا تھا۔ ان کے ہاں پیغمبر اور امام میں کوئی فرق نہیں ، دونوں معصوم ، دونوں ایک ہی چشمے اور ایک ہی ڈول سے پانی لینے والے ، جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے ’’لان مستقاً ھما من قلیب و مفرعھما من ذ نوب ‘‘ مقلد خواہ سنی ہو یا شیعہ، امامت کا تصور قریباً ایک ہی ہے۔
حنفی۔ شیعہ تو امام کو معصوم کہتے ہیں ‘ ہم اپنے امام کو معصوم تونہیں کہتے۔
محمدی۔ زبان سے بے شک نہ کہیں لیکن سمجھتے معصوم ہی ہیں ، جبھی ان کے نام پر مذہب بنا کر حنفی کہلاتے ہیں ۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اسلام میں سوائے پیغمبر کے کوئی امام نہیں ہو سکتا ، چہ جائیکہ کسی کو امام اعظم بنایا جائے ۔
حنفی۔ امام تو ہم نے اس لئے بنایا ہے کہ قیامت کے روز بلایا ہی اماموں کے نام پر جائیگا۔ جیسا کہ آیت میں ہے ’’ یوم یدعوا کل اناس بامامھم ‘‘ (بنی اسرائیل 71) میں ہے۔
محمدی۔ اس آیت میں امام سے مراد نامۂ اعمال ہے، آپ کے بنائے ہوئے امام نہیں ۔ چنانچہ آگے وضاحت موجود ہے ’’ فمن اوتی کتابہ بیمینہ فاولٰئک یقرؤن کتابھم ‘‘ ہم تمام لوگوں کو ان کے نامہ اعمال کے ساتھ بلائیں گے پھر جس کے دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دے دیا گیا وہ اپنے نامۂ اعمال کو پڑھے گا (اور خوش ہوگا) ظلم کسی پر نہ ہوگا۔
لیکن اگر امام سے مراد امام ہی لیا جائے تو وہ امام مراد نہیں جو آپ نے بنا رکھے ہیں بلکہ امام سے مراد وہ امام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے امام بنایا ہے ، یعنی انبیاء علیہم السلام ۔ قیامت کے روز امتوں کو ان کے انبیاء کے نام پر بلایا جائے گا ۔ اے فلاں نبی کی امت آؤ ! اے فلاں نبی کی امت آؤ! ۔ جیسا کہ قبر میں (من نبیک) سے اپنے اپنے نبی کے بارے میں سوال ہوتا ہے۔ پھر خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جنہوں نے اپنے امام بنا کر ان کی تقلید نہیں کی ، بلکہ نبیوں کی پیروی کی وہ اپنے نبیوں کے ساتھ جنت میں چلے جائیں گے۔ چنانچہ ابن کثیر میں ہے ‘‘ھذا اکبر شرف لاصحاب الحدیث لان امامھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ اہل حدیث کے لیے یہ بہت بڑا شرف ہے کہ ان کے امام صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ وہ ان کے ساتھ جنت میں چلے جائیں گے، اور اماموں کے مقلدین کھڑے رہ جائیں گے ، پھروہ اپنے بنائے ہوئے اماموں کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے۔
حنفی۔ کیا ہمارے امام دوزخ میں جائیں گے؟
محمدی۔ آپ کے امام ہیں کون ؟
حنفی۔ ہمارے امام ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں ۔
محمدی۔ وہ آپ کے امام کیسے ۔ کیا اللہ نے ان کو امام بنایا ہے ؟
حنفی۔ اللہ نے تو نہیں بنایا ۔
محمدی۔ پھر کیا خود انہوں نے کہا تھا کہ میں تمہارا امام ہوں میری تقلید کرنا۔
حنفی۔ انہوں نے تو نہیں کہا تھا ۔
محمدی۔ پھر وہ آپ لوگوں کے امام کیسے بن گئے ؟
حنفی۔ ہم جو اِن کو مانتے ہیں اور اپنا امام سمجھتے ہیں ۔
محمدی۔ آپ کے سمجھنے اور کہنے سے کیا ہوتا ہے ۔ جب تک امام اقتداء کی نیت نہ کرے وہ امام کیسے بن جائے گا۔ اگر ایسے امام بننے لگیں تو آپ کا کیا خیال ہے امام ابو حنیفہ جن کو دیوبندی اور بریلوی دونوں امام مانتے ہیں ، دیوبندیوں اور بریلویوں میں سے کس کو لے کر جنت میں جائیں گے ۔ دیوبندی اور بریلوی دونوں تو جنت میں جا نہیں سکتے ، کیونکہ وہ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں ۔ اگر بریلوی جنت میں گئے تو دیوبندی دوزخ میں جائیں گے اور اگر دیو بندی جنت میں گئے تو بریلوی دوزخ میں جائیں گے ۔ امام ابو حنیفہ کس کے ساتھ ہوں گے ، جبکہ وہ دونوں کے امام ہیں ۔ ایسے ہی اگر شیعہ اپنے اماموں کے ساتھ جنت میں چلے گئے تو پھر سنی اپنے اماموں کے ساتھ کہاں جائیں گے ۔ اگر سنی اپنے اماموں کے ساتھ جنت میں چلے گئے تو شیعہ کہاں جائیں گے ۔ جنت میں دونوں تو جا نہیں سکتے ، کیونکہ ان میں بعد المشرقین ہے۔ اب آپ ہی بتائیں آپ کے اصول پر شیعہ امام دوزخ میں جائیں گے یا سنی ۔ حالانکہ امام دونوں فرقوں کے نیک اور صالح تھے اور وہ انشاء اللہ ضرور جنت میں جائیں گے۔
حنفی۔ بات تو آپ کی ٹھیک ہے ۔ یہ اماموں کا مسئلہ ہے تو یقیناً بہت بڑا چکر۔
محمدی۔ ایسا ہی چکر وہ ہے جس کو ہمارے مقلدین ’’ المرء مع من احب ‘‘ پڑھ کر دیا کرتے ہیں کہ ہم اپنے اماموں اور اولیاء کے ساتھ ہوں گے کیونکہ ہمیں ان سے محبت ہے۔ اور اہل حدیث چونکہ کسی کو مانتے نہیں اس لیے ان کو کسی کا بھی ساتھ نصیب نہیں ہوگا ۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر محبت کا معیار یہی ہے جو آپ نے سمجھا ہے تو کیا موجودہ عیسائی جو عیسیٰ علیہ السلا م کی محبت کے دعویدار ہیں عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جنت میں جائیں گے؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں ،کیونکہ ان کی محبت غلط ہے ، تو تبرائی شیعہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور گیارھویں دینے والے حضرت جیلانی کو وہاں کیسے مل لیں گے ۔ اس لیے کہ ان کی محبت غلط ہے اور پھر محبت بھی وہ فائدہ دیتی ہے جو دونوں طرف سے ہو ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کبھی کسی ایسے سے محبت نہیں رکھیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آجانے پر ان کی اتباع نہ کرے ۔ ایسے ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ ، شاہ جیلانی رحمہ اللہ اور دیگرائمہ و اولیاء کبھی کسی ایسے سے محبت نہیں رکھ سکتے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہ کرے بلکہ شرک و بدعت کرے اور اپنی طرف سے امام بنا کر ان کی تقلید کرے ۔ وہ سب جانتے ہیں کہ اطاعت صرف اللہ کے حکم کی ہے اس لیے وہ اپنی پیروی کیسے کر واسکتے ہیں ۔ قرآن مجید میں ہے ’’ اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیاء ‘‘ (اعراف 3)اس کے پیچھے چلو جو اللہ نے تمہاری طرف اتارا ہے اس کا حکم مانو، اس کے حکم کو چھوڑ کر اولیاء کے پیچھے نہ جاؤ ۔ اولیاء سے مراد یہاں وہ ہستیاں ہیں ، جن کو لوگ خود تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے ذریعہ نجات سمجھ کر سہارا بناتے ہیں‘ حالانکہ سوائے پیغمبر کی پیروی کے اور کوئی ذریعہ نجات نہیں ۔ دنیا میں جتنے شرک و بدعت کرنے والے ہیں ، حقیقت میں ان کا پیر ، ان کا امام اور ان کا ولی صرف شیطان ہے ، وہ نام اللہ والوں اور اماموں کا لیتے ہیں ، عبادت و پیروی شیطان کی کرتے ہیں ۔ اسی لیے قرآن شیطان کی عبادت و پیروی سے بار بار منع کرتا ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے ’’ لا تعبدو الشیطن‘‘ (یاسین 60) شیطان کی پیروی نہ کرو۔ ’’ ولاتتبعوا خطوت الشیطن ‘‘ (البقرہ 168) شیطان کی پیروی نہ کرو ۔ دنیا میں کون سا ایسا ہے جو شیطان کی پیروی کرتا ہو ۔ ظاہر ہے اس سے مراد ائمہ و اولیاء ہی ہیں جن کے نام کا دھوکا دے کر شیطان اپنا کام کرتا ہے ۔ قیامت کے روز جب اللہ تعالیٰ دوزخیوں کو دوزخ میں ڈالنے کے لیے علیحدہ کریں گے تو فرمائیں گے ’’ الم اعھد الیکم یبنی آدم ان لا تعبدو الشیطن انہ لکم عدو مبین وان اعبدونی ھذا صراط مستقیم ولقد اضل منکم جبلاً کثیرا افلم تکونوا تعقلون ‘‘ یعنی اے انسانو !کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا بڑا دشمن ہے ۔ عبادت میری کرنا یہی سیدھا راستہ ہے لیکن تم نے پرواہ نہ کی اس نے تم میں سے کتنی بھاری تعداد کو گمراہ کرلیا ہے کیا تم بے عقل تھے جو تمہیں پتہ نہیں لگا ۔ اور یہ ہوتا یوں ہے کہ جب شیطان کسی کو نبی کی پیروی میں ذرا نرم دیکھتا ہے تو فوراً اس کے شکار کی کوشش کرتا ہے ۔ اپنے بڑے بڑے انسانی چیلوں کے ذریعہ نبی کی جگہ پیروی کے لیے ان بزرگوں کے نام تجویز کرتا ہے جن کی دنیا میں مقبولیت و شہرت ہوتی ہے ۔ ان کے نام پر شرک و بدعت کے بڑے بڑے سلسلے جاری کرتا ہے ۔ تصور ان بزرگوں کا پیش کرتا ہے اور پوجا پاٹ اپنی کراتا ہے ۔ جہلاء ان بزرگوں کے ناموں کی وجہ سے اس کے دھوکے میں آجاتے ہیں اور اس کی پیروی کرنے لگ جاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ ہم کس الٹی راہ پر لگ گئے ہیں بلکہ اس الٹی راہ کو ہی راہ راست سمجھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ’’ الذین ضل سعیہم فی الحیوۃ الدنیا و ھم یحسبون انھم یحسنون صنعا‘‘ یعنی شیطان کے گمراہ کردہ لوگ کام غلط کرتے ہیں لیکن جہالت کی وجہ سے سمجھتے یہ ہیں کہ ہم بہت اچھا کر رہے ہیں اور یہ کتنا بڑا دھوکہ ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے شیطان کا نام ہی غرور یعنی دھوکہ دینے والا رکھا ہے اور لوگوں کو اس کے دھوکے سے بار بار خبردار کیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا ’’ ولا یغرنکم با للہ الغرور ان الشیطن لکم عدو فاتخذوہ عدو انما یدعو حذبہ لیکونوا من اصحب السعیر ‘‘ ہوشیار رہنا دھوکہ باز تم کو دھوکہ دے کر خدا سے دور نہ کردے ۔ یہ دھوکا باز شیطان تمہارا دشمن ہے اسے دشمن ہی سمجھنا وہ اپنی پارٹی کو اس لیے باطل کی دعوت دیتا ہے کہ ان کو دوزخی بنا کر دشمنی نکالے ۔ اور اس کی صورت یہی ہوتی ہے کہ ائمہ اور اولیاء کے نام لے لے کر ان کے ذہنوں میں ایسا تصور پیدا کرتا ہے کہ وہ ان کی عبادت شروع کر دیتے ہیں یہی ان کے امام اور اولیاء ہیں جن کا تصور ان کے ذہن میں ہوتا ہے خارج میں بجز شیطان کے ان کا وجود نہیں ہوتا ۔ رہ گئے اصلی بزرگ جن کے نام لے کر شیطان اپنی عبادت کرواتا ہے ان کو پتہ تک نہیں ہوتا کہ ان کے ماننے والے کون ہیں اور وہ کیا کرتے ہیں ۔ وہ ان کی طرف سے بالکل بے خبر ہوتے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں ہے ’’وھم من دعائھم غافلون (الاحقاف 5) ، ’’ ماکنتم ایانا تعبدون ‘‘ (یونس 28) ، ’’ یکونون علیھم ضدا ‘‘ (مریم 82) ، ’’ کانوا بعباد تھم کفرین ‘‘ (الاحقاف 6) ، ’’ ان کنا عن عبادتکم لغافلین ‘‘ (یونس 28) جن کو تم پکارتے ہو ، جن کی تم عبادتیں کرتے ہو وہ تمہاری ان حرکتوں سے بالکل بے خبر ہیں قیامت کے دن وہ تمہارے مخالف ہوں گے ۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ پو چھیں گے ’’ ءانت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ ‘‘ اے عیسیٰ ! عیسائی جو تیری اور تیری ماں کی عبادت کرتے رہے ہیں تو کیا تو نے ان سے کہا تھا کہ ایسا کرنا۔ وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے ان سے نہیں کہا تھا کہ ہماری تقلید کرنا ، یہ سب کچھ اپنی مرضی سے کرتے رہے ہیں ۔ لہٰذا گمراہ ہونے والوں کے امام و اولیاء یہ نہیں جن کا ذکر کتابوں میں ہے بلکہ وہ شیاطین ہیں جو ان کے ذہنوں میں ہیں ،جو اِن سے یہ کام کرواتے ہیں وہی ان کے ساتھ دوزخ میں جائیں گے ۔ اس لیے تقلید کا سلسلہ سراسر گمراہی ہے اس سے بالکل بچنا چاہیے ۔ اب آپ دیکھ لیں کہ آپ کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم چاہیے یا سنت امام ۔ اگر سنت رسول چاہیے تو وہ حدیثِ رسول سے ملے گی اور حدیثِ رسول اہل حدیث سے ملے گی ۔ اگر سنت امام چاہیے تو وہ فقہ حنفی سے ملے گی اور فقہ حنفی حنفیوں سے ملے گی۔
حنفی۔ سنت رسول کی ہوتی ہے نا کہ امام کی ۔
محمدی۔ اگر امام کی سنت نہ ہو تو آپ حنفی کیوں بنیں ، آخر حنفی کسے کہتے ہیں ؟
حنفی۔ حنفی وہ ہوتا ہے جو فقہ حنفی پر چلے ۔
محمدی۔ فقہ حنفی کسے کہتے ہیں ؟
حنفی۔ امام ابو حنیفہ کے مسلک کو ۔
محمدی۔ مسلک سے کیا مراد ہے ؟
حنفی۔ مسلک طریقے کو کہتے ہیں ۔
محمدی۔ سنت بھی تو طریقے کو ہی کہتے ہیں ۔ جب ہم کہتے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا طریقہ ہے۔ اس طریقے سے انہوں نے یہ کام کیا تھا یا کرنے کو کہا تھا۔ لہٰذا جس کے طریقے پر آپ چلتے ہیں گویا اس کی سنت پر آپ عمل کرتے ہیں۔ کہیے یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟
حنفی۔ یہ بالکل ٹھیک ہے ، یہ بات میری سمجھ میں آگئی۔
محمدی۔ اسی لیے تو ہم کہتے ہیں حنفی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے طریقے پر چلتا ہے اوراصلی اہل سنت یعنی اہل حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر ۔
حنفی۔ لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا طریقہ کوئی علیحدہ تو نہیں ان کا طریقہ بھی تو وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔
محمدی۔ طریقہ وہی ہو یا مختلف حنفی کے پیش نظر تو طریقہ حنفی ہی ہوتا ہے ۔ وہ تو حنفی طریقے پر ہی چلتا ہے سنت رسول کے موافق ہو یا مخالف ۔ اگر مخالف ہو تو اسے ڈر نہیں کہ سنت رسول کی مخالفت ہوتی ہے اگر موافق ہو تو اسے خوشی نہیں کہ میں نے سنت رسول پر عمل کیا ہے ۔ حنفی اگر شروع کی رفع الیدین کرتا ہے تو اس لیے نہیں کہ یہ سنت رسول ہے وہ اس لیے کرتا ہے کہ حنفی طریقہ نماز یہی ہے ۔ وہ رکوع کو جاتے اور اٹھتے وقت رفع الیدین نہیں کرتا اس لیے نہیں کہ یہ سنت رسول نہیں بلکہ اس لیے کہ حنفی نماز میں یہ رفع الیدین نہیں ۔ جو رفع الیدین حنفی مذہب میں نہیں خواہ وہ سنت رسول ہو وہ اسے گھوڑے کی دم مارنے سے تشبیہ دیتا ہے یا مکھیاں مارنے سے تعبیر کرتا ہے جو اس کے مذہب میں ہے خواہ وہ سنت رسول نہ ہو وہ اس پر جان دیتا ہے جیسے قنوت کی رفع الیدین ۔
حنفی۔ حقیقت حال یہی ہے ہمیں بالکل یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہمارا یہ مسئلہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے یا مخالف ۔ ہمیں تو یہ یاد ہوتا ہے کہ ہم حنفی ہیں اور ہمیں اپنی فقہ پر چلنا ہے ہمیں کوئی صحیح سے صحیح حدیث بھی دکھائے اگرچہ ہم اس حدیث کا انکار نہیں کرتے لیکن ہم اس حدیث پر عمل بھی نہیں کرتے ۔ ہمارے دل میں یہ ہوتا ہے کہ یا یہ حدیث ٹھیک نہیں یا اس کا مطلب وہ نہیں جو ظاہر الفاظ سے نکلتا ہے یا یہ منسوخ ہے یا کوئی اور بات ہے۔ بہر کیف جب ہمارے امام نے اس حدیث پر عمل نہیں کیا تو ہم کیوں کریں ہم تو اپنے امام کے مذہب پر چلیں گے۔
محمدی۔ جبھی تو ہم کہتے ہیں حنفی کا محمد رسول اللہ پڑھنا اور اہل سنت کا دعویٰ کرنا ٹھیک نہیں ۔ جب وہ سنت رسول پر چلتا نہیں ، اپنے امام کی سنت پر چلتا ہے تو اسے زیب نہیں دیتا کہ وہ محمد رسول اللہ بھی ساتھ پڑھے اور اہل سنت ہونے کا دعویٰ کرے ۔ خدا کی قسم جس پابندی کے ساتھ آج ایک حنفی اپنے امام کی تقلید کرتا ہے اگر وہ اسی پابندی کے ساتھ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کرے تو اس کی نجات ہوجائے لیکن اس حال میں وہ نجات کی کیا توقع کر سکتا ہے ۔ آپ تو امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتے ہیں اگر آپ موسیٰ علیہ السلام کی تقلید بھی کریں تو نجات نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ لو بدا لکم موسی فاتبعتموہ وترکتمونی لضللتم عن سواء السبیل ‘‘ یعنی اگر آج موسیٰ علیہ السلام آجائیں اور تم ان کے پیچھے لگ جاؤ تو گمراہ ہو جاؤگے ۔ اب آپ سوچ لیں کہاں موسیٰ علیہ السلام اور کہاں امام ابو حنیفہ ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد موسیٰ علیہ السلام کی پیروی میں نجات نہیں تو امام ابو حنیفہ کی تقلید میں کیسے نجات ہوسکتی ہے؟ ہمیں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے کوئی کد نہیں ۔ ہمیں ان سے کوئی حسد نہیں ۔ ہمارا کوئی امام نہیں کہ ہم آپ کو امام ابو حنیفہ سے توڑ کر کسی اور سے جوڑ رہے ہوں ۔ ہم تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت دے رہے ہیں جن کا آپ کلمہ پڑھتے ہیں جن کی پیروی میں نجات ہے اور اس سے باہر نجات نہیں ۔ سوچ لیں معاملہ نجات کا ہے اگر اسی حنفیت پر آپ کا خاتمہ ہوگیا تو معاملہ بڑا خطرناک ہے ۔
ھذا بلغ للناس ولنذرو بہ ولیعلموا انما ھو الہ واحد ولیذکر اولوالالباب ۔
No comments:
Post a Comment